تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور23فروری/ایک صیہونی روز نامے نےا پنی ایک رپورٹ میں نجباء مقاومتی تنظیم کے سیکریٹری جنرل شیخ اکرم الکعبی کےدورہ لبنان اورحزب‌الله رہنماوں سے ملاقات پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں وہ حزب اللہ کے ہمراہ ہوگی۔

نیوزنور23فروری/بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر نےجوہری معاہدے کے حوالےسےایک بار پھر ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی ہے۔

نیوزنور23فروری/ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد اپنے ملک کے شہریوں پر دباؤ بڑھانے اور مخالفین کو کچلنے کے لئے اصلاحات کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔

نیوزنور22فروری/اسلامی تحریک مقاومت حماس کے ترجمان نےکہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیکی ہیلی کے خطاب سے فلسطینی قوم کے تئیں ان کی دشمنی جھلک رہی تھی۔

نیوزنور22فروری/ایک صیہونی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے مظالم اور توسیع پسندانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے یہودیوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
اسرائیل کے ساتھ رابطے کے لیے سعودیوں کے مخفی خط کا پردہ فاش

نیوزنور:ایک لبنانی عربی روزنامے نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی طرف سے اس ملک کے ولی عہد کے نام لکھے گئے رازدارانہ خط کو منتشر کیا ہے کہ جس میں ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۹۰۱ : // تفصیل

اسرائیل کے ساتھ رابطے کے  لیے سعودیوں کے مخفی خط کا پردہ فاش

نیوزنور:ایک لبنانی عربی روزنامے نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی طرف سے اس ملک کے ولی عہد کے نام لکھے گئے رازدارانہ خط کو منتشر کیا ہے کہ جس میں ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، ایک لبنانی روزنامے نے ایک مخفیانہ خط منتشر کیا ہے کہ جو سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کی طرف سے اس ملک کے ولی عہد کے نام لکھا گیا ہے اور جس میں صہیونی حکومت کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کی بات کہی گئی ہے ۔ 

اس خط کا متن کہ جسے اس روزنامے نے لندن میں اپنے ذرائع سے حاصل کیا ہے ، درج ذیل ہے :

بہت جلدی اور مخفیانہ ،

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان ، ضروری ہے کہ آپ کے ساتھ امریکہ کے وزیر خارجہ کے ساتھ حساس سمجھوتے کے تحت سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان روابط پیدا کرنے کے بارے میں بات کروں ۔

سعودی عرب نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے ساتھ ایک مشترکہ حساس سمجھوتے میں وعدہ کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کی ہر طرح کی کوشش کامیابی کی کنجی ہے اس لیے کہ اسلامی اور عربی دونوں جہانوں میں  سعودی عرب مشکلات کے حل کے لیے سب سے اچھا ملک ہے اور فلسطین کا مسئلہ کسی بھی قیمت پر  حل ہونے والا نہیں ہے مگر یہ کہ سعودی عرب اس کی حمایت کرے اس لیے کہ سعودی عرب مسلمانوں کا قبلہ ہے ۔

اس خط میں دعوی کیا گیا ہے : سعودی عرب اور اسرائیل ،کے درمیان روابط استوار کرنا سعودی عرب کی طرف سے اسلامی ملتوں کے خلاف خطرے کو تسلیم کرنے پر مشتمل ہے ، اور سعودی عرب اس رابطے میں شامل نہیں ہو گا مگر یہ کہ اس کو احساس ہو جائے  کہ امریکہ کی ایران سے دشمنی سچی ہے ۔ وہ ایران کہ جو دہشت گردوں کی حمایت سے اور دوسروں کے امور میں مداخلت کر کے بے ثباتی ایجاد کرتا ہے ، اور اسلامی تعاون کونسل  کے ملکوں کی کانفرنس میں جو استانبول میں منعقد ہوئی اس نے ایران کی ان مداخلتوں کی مذمت کی ہے ۔

اس خط میں آگے اسرائیل کی جوہری طاقت  اور اس کی فوجی توانائی پر زور دیتے ہوئے آیا ہے : سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ روابط شروع میں عالم اسلام کو ہضم نہیں ہو ں گے لیکن اسرائیل کی قدرت اور طاقت کے پیش نظر اور عربی ملکوں کی اقتصادی طاقت کو دیکھتے ہوئے مشرق وسطی میں ان روابط سے بہار آجائے گی ۔ اور امن و امان کا دور دورہ ہو گا ۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشمکش مشرق وسطی میں سب سے لمبی کشمکش ہے اور باعث بنی ہے کہ علاقے میں جو موئثر فریق ہیں وہ علاقے کے اصلی خطرے یعنی ایران کی جانب توجہ نہیں کر رہے ہیں ۔ اس خط میں آیا ہے کہ  اس کشمکش کا حل باعث بنے گا کہ سیکیوریٹی اور تجارت کے مسائل میں تعاون اور ایران کے ساتھ مقابلے میں ا ضافہ ہو گا۔ چنانچہ سعودی عرب اور اسرائیل کو درج ذیل مسائل پر سمجھوتہ کرنا چاہیے ۔

۱ ۔ ہر طرح کی ان سر گرمیوں کا مقابلہ جو خطے میں ایران کی خصومت پسند سیاست کو ہوا دے رہی ہیں ۔

۲ ۔ امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں میں ایران کے بیلسٹیک میزائل کو روکنے کے لیے اضافہ کرنا ۔

۳ ۔ ایران کے خلاف عالمی دہشت گردی کی  حمایت کرنے کے جرم میں اس پر مزید پابندیاں لگا نا ۔

۴ ۔ ایران کے ساتھ ہوئے جوہری سمجھوتے پر نظر ثانی کرنا ۔

۵ ۔ ایران کے ضبط شدہ سرمائے تک پہنچنے سے ایران کو روکنا اور اس طریقے سے ایرانی حکومت پر دباو ڈالنا ۔

۶ ۔ منشیات کی اسمگلینگ میں ایران کی اور حزب اللہ کی طرف سے جو حمایت ہوتی ہے اس کے اس جرم کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اطلاعات کا تبادلہ کرنا ۔    

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر