تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور23فروری/ایک صیہونی روز نامے نےا پنی ایک رپورٹ میں نجباء مقاومتی تنظیم کے سیکریٹری جنرل شیخ اکرم الکعبی کےدورہ لبنان اورحزب‌الله رہنماوں سے ملاقات پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں وہ حزب اللہ کے ہمراہ ہوگی۔

نیوزنور23فروری/بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر نےجوہری معاہدے کے حوالےسےایک بار پھر ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی ہے۔

نیوزنور23فروری/ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد اپنے ملک کے شہریوں پر دباؤ بڑھانے اور مخالفین کو کچلنے کے لئے اصلاحات کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔

نیوزنور22فروری/اسلامی تحریک مقاومت حماس کے ترجمان نےکہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیکی ہیلی کے خطاب سے فلسطینی قوم کے تئیں ان کی دشمنی جھلک رہی تھی۔

نیوزنور22فروری/ایک صیہونی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے مظالم اور توسیع پسندانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے یہودیوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
اشپیگل : ریاض اور تل ابیب اپنے ایران کے خلاف آپسی تعاون کا بھانڈا پھوٹنے کی پرواہ نہیں کرتے

نیوزنور:جرمنی کے ایک نشریے نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے ساتھ اطلاعاتی تعاون کے بارے میں صہیونی حکام کے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان دونوں کو اب اپنے آپسی تعاون کے برملا ہو جانے کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۹۲۶ : // تفصیل

اشپیگل : ریاض اور تل ابیب اپنے ایران کے خلاف آپسی تعاون کا بھانڈا پھوٹنے کی پرواہ نہیں کرتے

نیوزنور:جرمنی کے ایک نشریے نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے ساتھ اطلاعاتی تعاون کے بارے میں صہیونی حکام کے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان دونوں کو اب اپنے آپسی تعاون کے برملا ہو جانے کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، جرمنی کے ایک نشریے اشپیگل نے ایک رپورٹ میں علاقے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے آپسی تعاون کا جائزہ لیا ہے اور ریاض اور تل ابیب کے اس تعاون کو گہرائی تک جا کر کھنگالا ہے اور اس موضوع کو بیان کیا ہے کہ ان دنوں  حکومتوں کا اصلی رقیب ایران ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل اس کے بعد ایران کے خلاف اپنے تعاون کو کسی سے چھپائیں گے نہیں ۔

اس رپورٹ میں آیا ہے کہ اسرائیلی جنرل گاڈی آیزنکوٹ جو شاذ و نادر ہی انٹرویو دیتا ہے اور سال ۲۰۱۵ میں اقتدار کی کرسی سنبھالنے سے اب تک اس نے کسی خارجی نامہ نگار سے بات نہیں کی ہے ، اور اس چیز کا تعلق اسرائیل کی سیاست سے ہے نہ کہ اس کی فوج سے ۔اس کے باوجود اس ۵۷ سالہ جنرل نے اسی مہینے میں ایک خبری سایٹ ایلاف کے ساتھ کہ جو سعودی عرب سے متعلق ہے ایک گفتگو کی ہے ۔ یہ اقدام ایسی حالت میں ہوا ہے کہ سعودی عرب کی وہابی حکومت اور اسرائیل کی یہودی حکومت کے آپس میں کسی بھی طرح کے سیاسی روابط نہیں ہیں ۔ اس نے اس گفتگو میں بتایا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ خفیہ اطلاعات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور تاکید کرتا ہے کہ دونوں فریقوں کے بہت سارے مشترکہ مفادات ہیں ۔ واضح لفظوں میں اس کا کہنا ہے کہ ریاض اور یروشلم کہ جن کی رائے ہمیشہ موافق نہیں ہے ، لیکن وہ جمہوریء اسلامیء ایران کے خوف سے کہ دونوں حکومتیں جسے اپنا دشمن مانتی ہیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں ۔

آیزنکوٹ نے اس انٹرویو میں ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ مشرق وسطی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہا ہے اور لبنان  سے ایران تک اور خلیج فارس سے ریڈ سمندر تک ایک ہلال شیعی بنانا چاہتا ہے ، یہ کہنا پڑے گا کہ اس بات چیت کا وقت بھی اتفاقی نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا بھی اس میں ہاتھ ہو  ۔اس طرح اس انٹرویو کو نشر کرنا بھی سعودی  حکام کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

جرمنی کے اس نشریے نے لکھا ہے کہ ۱۹۴۸ میں اسرائیل کی تشکیل کے وقت سے لے کر اس ملک کے حکام اس کوشش میں رہے ہیں کہ وہ جہان عرب کے شریک بنیں ۔سعودی عرب نے اپنے اقدامات کے ذریعے اس چیز کا راستہ ہموار کر دیا ہے ۔ اس چیز کا سعودی عرب کے سیاسی محاسبات  سے سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان کی امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے ساتھ ملاقات سے پتہ چلتا ہے ۔ سعودی عرب نے یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ امریکہ لمبی مدت میں علاقے کو چھوڑ دے گا ، کوشش کر رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے کہ جو ایک فوجی اور اقتصادی طاقت ہے نزدیک ہو ۔

البتہ اسرائیل کے امنیتی اور سیکیوریٹی کے حکام کا بہت پہلے سے مصری اور اردنی ساتھیوں سے تال میل رہا ہے  ۔ گذشتہ برسوں میں اسی طرح کے اقدامات متحدہ عرب امارات میں خلیف فارس کی ایک بڑی طاقت کے عنوان سے انجام پائے تھے ۔

سعودی خبری مرکز کے ساتھ آیزنکوٹ کے انٹرویو کے بعد  اسرائیل کے وزیر توانائی ،یوال اشتاینیتز نے بھی ریڈیو اسرائیل کو بتایا کہ تل ابیب کا سیکیوریٹی کے مسائل میں ریاض کے ساتھ تال میل ہے اور ان اقدامات کی تشریح کرتے ہوئے بتایا : ہمارے بہت سارے عربی اور اسلامی ملکوں کے ساتھ خفیہ روابط ہیں اور ان میں سے بہت سارے ہمارے شریک ہیں اور اس میں کوئی شرمانے کی بات نہیں ہے ۔ایک اور اسرائیلی حکمران نے بتایا کہ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں اور سعودیوں کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے ہم اسے فراہم کرتے ہیں لیکن یہ سارے کام ہم بند دروازوں کے پیچھے کرتے ہیں ۔

البتہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نیتنیاہو کو بھی امید ہے کہ وہ سعودیوں سے بہت سارے امتیازات وصول کرے گا اور اسرائیلی تو اپنی سیکیوریٹی کی ضمانت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے ۔ اس سلسلے میں سیاسی محرکات پائے جاتے ہیں ۔ ٹرامپ کئی مہینے سے اسرائیل اور فلسطین کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے ۔یہ اقدامات باعث بنے ہیں کہ اسرائیل کی حکومت میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ٹرامپ ۲۰۰۲ کے صلح کے مشن کو جس کی اس نے سعودی عرب کو پیش کش کی ہے پورا کرنا چاہتا ہے ۔

اشپیگل نے اس رپورٹ کے آخری حصے میں لکھا ہے کہ اسرائیل اس مشن کے پورا ہونے کی حمایت نہیں کرتا اور نیتنیاہو کو امید ہے کہ سعودی عرب ایران کا مقابلہ کرنے میں اس حکومت کی حمایت کرے گا وہ فلسطین کے کچھ مطالبات سے دوری اختیار کرے گا اور سعودی عرب خود مختار حکومت کے سربراہ محمود عباس کو اپنا موقف بدلنے پر راضی کر لے گا ۔     


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر